بابا فرید سے بری امام تک

بابا فرید سے بری امام تک

کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے کی بات ہے۔ مجھے ایک فقیر دوست نے کہا ’اسحاق ڈار نےبری امامؒ پر کسی کودعا کرنے بھیجاتھا اور مجھے لگتا ہے ان کی دعا قبول ہو چکی ہے۔ تمہیں تو پتہ ہےبری سرکار، سرکاریں بدلنے میں مشہور ہیں ‘‘۔ میں نے ہنس کر کہا ’’ خیال رکھنا دوسری طرف بابا فرید ہیں۔ ‘‘بہر حال اس فقیر دوست کی پیشین گوئی اس وقت پوری ہونے کے قریب ہے۔ بری سرکارسے متعلق کئی حیرت انگیز باتیں کتابوں میں تحریر ہیں۔ خاص طور پراسلام آباد کے متعلق تین سو سال پیشتر یہ پیش گوئی کہ یہ سرزمین ایک دن نہ صرف فرزندانِ اسلام کا مرکز عالی شان اورچمکتا دمکتا شہر بن جائے گی بلکہ اس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا۔واقعی حیران کن ہے۔

بری امام 1617ءمیں تحصیل چکوال ضلع جہلم کے علاقے چولی کرسال میں پیدا ہوئےآپ کے والد گرامی کا اسم مبارک سید سخی محمودؒ بادشاہ کاظمی تھا، وہ بھی ایک ولی کامل تھے۔نجف اشرف سے فارغ التحصیل تھے۔ بری امام نے ابتدائی علوم ظاہری و باطنی اپنے والد بزرگوار سے حاصل کئے۔ اس کے بعد انہیں اٹک کے ایک بڑے علمی مرکز غورغشتی بھیج دیا گیا۔ جہاں آپؒ نے حدیث، منطق، فقہ، ریاضی، علم الکلام، علم ادب، علم معانی اور علم طب حاصل کئے۔بری امام نے کشمیر،بدخشاں، مشہد مقدس، نجفِ اشرف، کربلائے معلی، بغداد، بخارا، مصر، دمشق کا سفر بھی کیااور وہاں موجود جید علماءاور اولیاء سے مزید دینی علوم اور روحانی فیوض حاصل کیے۔ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی اور حجِ بیت اﷲ کے بعدبارہ سال کاطویل سفر کر کے راولپنڈی کے گاؤں سید کسراں میں واپس آئے۔ آپ کے مرشد بابا ولی قندھاری ہیں۔

ان کی بیٹھک حسن ابدال کے معروف پہاڑ کی چوٹی پر مرجع خلائق ہے۔کتاب کرامات شاہ لطیف بری کے مصنف غلام حسین بخاری اپنے رسالہ میں سید جمال اللہ حیات المیر کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ کہ وہ پانی ناپید ہونے کی صورت میں اپنی چند ضربوں سے اردگرد،تیز پانی کے چشمے بہا دیتے تھے۔ان کو زندہ پیر بھی کہا جاتا ہےکہ دنیا میں خورد و کلاں کی نظروں سے غائب ہیں مگر عارفانِ باللہ کے نزدیک ہر وقت اور ہر رنگ میں موجود ہیں اور خواجگانِ زندہ میں شمار ہوتے ہیں۔حضرت بری امام،اپنے مرشد کی صحبت سے طویل عرصے تک اکتسابِ فیض کرتے رہے۔انہیں امام البر یعنی زمین کے رہبر وامام کا لقب بھی انہوں نے ہی عطاکیا تھا۔ وہ زندگی بھر اس لقب کی عملی تفسیر بن کر خطہ پوٹھوہار کو علم و معرفت کے نور سے جگمگاتے رہے۔ان کے مزار پر عرس کے دنوں میں، تل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی۔لوگ نہ صرف دربار پر حاضری دیتے ہیں بلکہ دشوار گزار پہاڑی رستے سے اس غار کی زیارت بھی کرنے جاتے ہیں جو آپ کی چلہ گاہ کے نام سے مشہور ہے۔اب یہاں ایک سڑک بھی بنا دی گئی ہے۔

یہ مقام مارگلہ کی پہاڑیوں میں ہے، جہاں انہوں نے طویل عرصہ تک عبادت کی۔ اس مقام کو لوئے دندی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔بری امام ؒ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ آپ ؒ کے چار طالب علم آپؒ کے جانشین ہوئے۔ ان میں حضرت مٹھا شاہ ؒ، حضرت دھنگ شاہؒ، حضرت شاہ حسین ؒاور حضرت عنایت شاہؒ شامل ہیں۔امام بریؒ 1117ھ بمطابق 1706ءمیں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کا مزارپہلے پہل مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے تعمیر کرایا تھا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تعمیر اور تبدیلیاں ہوتی رہیں۔پرویز مشرف کے دور میں بم دھماکے کے بعد یہ مزار زائرین کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔اب یہ تعمیر و تزئین کرکے عوام وخواص کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
موضع نور پور چور پور کے نام سے معروف ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے باشندے،مسافروں سےلوٹ کھسوٹ میں مصروف رہتے تھے۔بری امام کے دم قدم سے،یہ سارا علاقہ کچھ ہی عرصے میں پر امن ہو کر نور پور بن گیا۔ان کےبچپن کا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ ایک روز اپنے جانوروں کو چرانے کی غرض سے نکلے اورعبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے۔ارتکاز توجہ کی بدولت آپ کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ آپ کے مویشی کس وقت زمیندار کے کھیت میں گھس گئے اور انہوں نے ساری فصل تباہ کر دی۔ فصل کے مالک کو معلوم ہوا تو شکایت لے کر آپ کے والد بزرگوار سید محمود شاہ ؓ کے پاس آیا۔

آپ کے والد زمیندار کے ہمراہ آپ کے پاس پہنچے اور سرزنش کی کہ آپ کی بے توجہی کی وجہ سے اس شخص کی ساری فصل تباہ ہوگئی ہے۔یہ بات سن کر تھوڑی دیرتک آپ خاموش رہے۔ اس کےبعد آپ نے بڑے اطمینان سے آہستہ سے سر اوپر اٹھایا اور نہایت ادب سے ٹھہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے۔ ابا جی ذرا فصل کی طرف تو دیکھئے۔ جونہی آپ کے والد محترم نے فصل کی طرف دیکھا تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چند لمحے پہلے جو فصل تہس نہس ہو چکی تھی اب ایک سر سبز و شاداب کھیت کی صورت میں لہلہاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ حضرت بری امام کی کئی کرامات مختلف رسائل وجرائد اور کتابوں میں ملتی ہیں۔حضرت شاہ عبد الطیف بری امام کی سوانح عمری یار محمد بھوئی نے تحریر کی تھی۔یہ کتاب قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد تحریر ہوئی اور طبع تھی۔اب اس کی ایک کاپی بوئی گاڑ، ٹیکسلا میں نور محمد نظامی کے کتب خانے میں موجود ہے۔
سر کار یں بدلنے کے حوالے سے ایک شعر یاد آرہا ہے۔ یہ شعر ملکہ ترنم نورجہاںنےاپنے گیت ’’بری بری امام بری ‘‘ کے آغاز میں گایا ہے۔
ترا کرم کی بری سرکار ہویا
جنگل بنجر پہاڑ گلزار بن گئے
تسیں آپ سرکار سو صدیاں توں
جہڑے کول آئے، سرکار بن گئے

Leave a Reply